کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر اللہ جل وعلا سے استغفار مانگے
حدیث نمبر: 2847
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فَزِعًا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ " : يُرِيدُ بِهِ إِلَى صَلاةِ الْكُسُوفِ لأَنَّ الصَّلاةَ تُسَمَّى ذِكْرًا ، أَوْ فِيهَا ذِكْرُ اللَّهِ ، فَسَمَّى الصَّلاةَ ذِكْرًا .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں اٹھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” یہ وہ نشانیاں ہیں، جنہیںاللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتی ہیں، بلکہاللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے، تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے جب تم ان میں سے کسی چیز کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف آؤ۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ” تم اس کے ذکر کی طرف آؤ “ اس سے آپ کی مراد نماز کسوف ہے کیونکہ نماز کے لیے لفظ ذکر استعمال ہوتا ہے یا پھر یہ کہ اس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے۔ اس لیے نماز کے لیے لفظ ذکر استعمال ہوا ہے۔