کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ سورج یا چاند گرہن کی نماز کے لیے تیاری کرتے وقت اللہ جل وعلا کی کثرت سے تکبیر کرے اور صدقہ دے
حدیث نمبر: 2845
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ، فَقَامَ وَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الأُولَى ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرِ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا " . وَقَالَ : " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِي عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِي أُمَّتُهُ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا، اور طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا، تو طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم انہیں دیکھو تواللہ تعالیٰ سے دعا کرو اس کی کبریائی بیان کرو صدقہ و خیرات کرو۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے محمد کی امت! اللہ کی قسم! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنااللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے، جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے۔ اے محمد کی امت! اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ جان لو تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2845
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1077)، «جزء الكسوف»، «الإرواء» (658): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2834»