کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس نوع کی صلاة الكسوف دو رکعتوں میں چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنی چاہیے
حدیث نمبر: 2844
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَلِكَ يَوْمَ مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، كَبَّرَ ، ثُمَّ قَرَأَ ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ ، فَصَلَّى ثَلاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلاتِهِ ، فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ ، فَتَقَدَّمْتُ الصُّفُوفُ مَعَهُ فَقَضَى الصَّلاةَ وَقَدْ أَضَاءَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ " .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا یہ اس دن کی بات ہے، جس دن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے) کا انتقال ہوا تھا لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ہمراہ نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کیا، اور طویل قرأت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا جو اتنا لمبا تھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور قرأت شروع کر دی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس (دوسری) قرأت جتنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر قرأت کی جو دوسری قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً اتنا ہی لمبا رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر دو مرتبہ سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی جس میں تین مرتبہ رکوع کیا جو سجدے میں جانے سے پہلے تھا اس میں سے ہر ایک رکوع اپنے سے پہلے والے رکوع سے کم تھا البتہ آپ کا رکوع آپ کے قیام جتنا ہوتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران پیچھے بھی ہٹے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو نماز ادا کرو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2844
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح؛ لكن قوله: ست ركعات .. شاذ، والمحفوظ: أربع ركعات: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2833»