حدیث نمبر: 2840
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَتْهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا ، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا ، فَقَالَتْ : أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ لَيُفْتَنُونَ فِي الْقَبْرِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَائِذٌ بِاللَّهِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا النِّسَاءُ ، وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَلِكَ ضَحْوَةً ، فَقَامَ يُصَلِّي فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ ، ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ ، وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلا أَنَّ رُكُوعَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الأُولَى ، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : فِيمَا يَقُولُ : " إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِتَعَوُّذٍ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور بولی:اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے نجات عطا کرے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کیا لوگوں کو قبر میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اسی دوران سورج گرہن ہو گیا تو ہم لوگ حجرے کی طرف آئے خواتین ہمارے پاس اکٹھی ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہ چاشت کے وقت کی بات ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اسے ادا کیا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اسی دوران سورج روشن ہو گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران یہ بات بھی ارشاد فرمائی: ” لوگ اپنی قبروں میں ایسی آزمائش میں مبتلا ہوں گے جو دجال کی آزمائش جیسی ہو گی۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔