کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر نماز کے ساتھ دعا اور استغفار کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2836
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فَزِعًا ، خَشِينَا أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ ، فَقَامَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ ، وَرُكُوعٍ ، وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ فِي صَلاةٍ قَطُّ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ ، وَدُعَائِهِ ، وَاسْتِغْفَارِهِ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ گھبرا کر کھڑے ہوئے ہمیں یہ اندیشہ ہوا قیامت آنے والی ہے آپ مسجد میں تشریف لائے آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے طویل قیام رکوع اور سجدے والی نماز ادا کی میں نے آپ کو کسی نماز میں اتنا طویل قیام رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ نے خطبہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ” بیشک یہ نشانیاں ہے، جواللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نمودار نہیں ہوتی ہیں، بلکہاللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے، تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے، تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اس سے دعا مانگنے اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2836
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «جزء الكسوف»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2825»