کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ لفظ "فادعوا" سے مراد ہمارے بیان کردہ کے مطابق نماز پڑھنا ہے
حدیث نمبر: 2835
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَجْلانًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَرَ إِزَارَهُ ، أَوْ ثَوْبَهُ ، وَثَّابَ إِلَيْهِ النَاسٌ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ نَحْوَ مَا تُصَلُّونَ ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنْهَا ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَثَّابَ إِلَيْهِ النَّاسُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، وَإِنَّهُمَا لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَكَانَ ابْنُهُ تُوُفِّيَ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَصَلُّوا حَتَّى يَكْشِفَ مَا بِكُمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَبِي بَكْرَةَ : فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ نَحْوَ مَا تُصَلُّونَ ، أَرَادَ بِهِ تُصَلُّونَ صَلاةَ الْكُسُوفِ رَكْعَتَيْنِ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ ، وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ عَلَى حَسَبِ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جلدی کے عالم میں مسجد کے اندر تشریف لے گئے آپ اپنے تہبند کو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) آپ اپنے کپڑے کو گھسیٹ رہے تھے لوگ بھی آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دو رکعات نماز پڑھائی جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو سورج گرہن ختم ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، جن کے ذریعےاللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے یہ دونوں کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تھا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب تم ان میں سے کوئی چیز (یعنی کسی کو گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرتے رہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں۔ جس طرح تم لوگ نماز ادا کرتے ہو۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ جس طرح تم لوگ نماز کسوف میں دو رکعات ادا کرتے ہو۔ جس میں چار رکوع اور چار سجدے ہوتے ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2835
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2824»