کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر نماز پڑھنی چاہیے
حدیث نمبر: 2834
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا ، فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّيهَا ، حَتَّى انْجَلَتْ ، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ، فَادْعُوا حَتَّى يَكْشِفَ مَا بِكُمْ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَادْعُوا " : أَرَادَ بِهِ فَصَلُّوا ، إِذِ الْعَرَبُ تُسَمِّي الصَّلاةَ دُعَاءً .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سورج گرہن ہو چکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے آپ اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے آپ نے دو رکعات نماز ادا کی ابھی آپ نماز ادا کر ہی رہے تھے، اسی دوران گرہن ختم ہو گیا۔ یہ گرہن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے موقع پر ہوا تھا اس لیے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اے لوگو! بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو دعا مانگو یہاں تک کہ وہ گرہن ختم ہو جائے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم لوگ دعا مانگو “ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ عرب بعض اوقات نماز کے لیے لفظ دعا استعمال کر لیتے ہیں۔