کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان -
حدیث نمبر: 2827
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَادْعُوا وَصَلُّوا ، حَتَّى تَنْجَلِيَ " .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ یہ اس دن کی بات ہے (جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا لوگوں نے کہا: یہ گرہن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں یہ کسی کے مرنے یا کسی کے جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو دعا مانگو نماز ادا کرو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 2828
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، أُرِيدَ بِهِ أَحَدُهُمَا ، لأَنَّهُمَا لا يَنْكَسِفَانِ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، (آپ نے ارشاد فرمایا ہے:) ” بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ دونوںاللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان دونوں کو (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن ہو۔ تو بھی نماز ادا کی جائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ جب ان دونوں کو ایک ہی وقت میں گرہن ہو، تو اس وقت نماز ادا کرنے کا حکم ہے۔
حدیث نمبر: 2829
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا انْكَسَفَ أَحَدُهُمَا ، فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَمَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ بِالصَّلاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، وَهُوَ الْمَقْصُودُ ، فَأَطْلَقَ هَذَا الْمَقْصُودَ عَلَى سَبَبِهِ وَهُوَ الْمَسَاجِدُ ، لأَنَّ الصَّلاةَ تَتَّصِلُ فِيهَا لا أَنَّ الْمَسَاجِدَ يُسْتَغْنَى بِحُضُورِهَا عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ أَوِ الْقَمَرِ دُونَ الصَّلاةِ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ کی اقتداء میں ہم بھی کھڑے ہوئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ” اے لوگو! بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے، تو تم مساجد کی طرف آؤ (یعنی نماز کسوف ادا کرو) ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہی مقصود ہے تو یہاں مقصود کو اس کے سبب پر مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے اور وہ مساجد ہیں۔ کیونکہ نماز مسجد میں ادا کی جاتی ہے ایسا نہیں ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت صرف مسجد میں آ جانا کافی ہو گا۔ جبکہ نماز ادا نہ کی جائے۔