کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جمعہ کی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ عیدوں اور جمعوں میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر کیا جائے
حدیث نمبر: 2791
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ ، خطبنا عمار بن ياسر ، فأوجز وأبلغ ، فلما نزل قلنا : يا أبا اليقظان ، لقد أبلغت وأوجزت ، فلو كنت تنفست ، فقال : إني سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَّ طُولِ صَلاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ ، فَأَطِيلُوا الصَّلاةَ ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .
ابووائل بیان کرتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے مختصر اور بلیغ خطبہ دیا جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا: اے ابویقظان! آپ نے بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے اگر آپ مزید (خطبہ) دیتے (تو مناسب ہوتا) تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” آدمی کا نماز کو طویل ادا کرنا اور خطبے کو مختصر دینا آدمی کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے، تو تم لوگ نماز کو طویل ادا کرو اور خطبہ مختصر دیا کرو کیونکہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2791
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (618): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2780»