کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2772
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الأَحْبَارِ ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ ، أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلَّقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُهْبِطَ ، وَفِيهِ مَاتَ ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، مِنْ حِينِ تُصْبِحُ ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلا الْجِنَّ وَالإِنْسَ ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ ، وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " ، قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيَّ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا ، وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلِيَاءَ ، أَوْ مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " ، شَكَّ أَيُّهُمَا . قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ ، وَمَا حَدَّثَتْهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْبٌ: وَذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ ، قُلْتُ: ثُمَّ قَرَأَ التَّوْرَاةَ ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ ، ثُمّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا وَلا تَضِنَّنَ عَلَيَّ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي " ، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لا يُصَلَّى فِيهَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ فَهُوَ فِي صَلاةٍ ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَلَى ، قَالَ: فَهُوَ ذَاكَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں۔ میں کوہ طور کی زیارت کے لیے روانہ ہوا میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ انہوں نے مجھے تورات کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں میں نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کے بارے میں بتایا میں نے انہیں جو احادیث بیان کی تھیں ان میں یہ بات بھی بیان کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے جمعہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اسی دن میں انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کا انتقال ہوا اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اسی دن میں قیامت قائم ہو گی ہر جانور جمعہ کے دن (گھبراہٹ کی وجہ سے) چیختا ہے اس وقت جب صبح (صادق) ہوتی ہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آئے، (تو وہ چیخنا بند کر دیتا ہے) وہ ایسا قیامت کے خوف کی وجہ سے کرتا ہے البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں اگر مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہے، تو وہاللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا، تواللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا ۔“ اس پر کعب الاحبار نے کہا: یہ خصوصیت پورے سال میں صرف کسی ایک دن میں ہوتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں! بلکہ ہر جمعے میں ہوتی ہے، پھر کعب نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی، اللہ کے رسول نے سچ کہا: ہے۔