کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: سفر کی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سفر میں قصر نماز قبول کی جائے کیونکہ یہ اللہ کی صدقہ ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کیا
حدیث نمبر: 2741
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ : إِقْصَارُ النَّاسِ الصَّلاةَ ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 ، فَقَدْ ذَهَبَ ذَاكَ ، فَقَالَ : عَجِبْتُ مِنْهُ حَتَّى سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ قصر نماز پڑھتے ہیں جبکہاللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو، کافر لوگ تمہیں آزمائش کا شکار کر دیں گے ۔“ تو یہ صورت حال تو اب رخصت ہو چکی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا تھا یہاں تک کہ میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ” یہ ایک صدقہ ہے، جواللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر کیا ہے تم اس کے صدقے کو قبول کر لو ۔“