کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: سفر کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اللہ کی صدقہ قبول کرو" سے مراد وہ رخصت ہے جو اسے عمل میں لانے والے کے لیے ہے، نہ کہ ایسی صدقہ جو حتمی ہو اور اس سے تجاوز جائز نہ ہو
حدیث نمبر: 2740
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهُمُ الصَّلاةَ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 ، وَقَدْ ذَهَبَ هَذَا ، فَقَالَ عُمَرُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا رُخْصَتُهُ " .
یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے، وہ نماز قصر ادا کرتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔“ یہ اس وقت ہے، جب تم لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہو، کافر لوگ تمہیں آزمائش کا شکار کر دیں گے تو اس وقت اگر تم نماز قصر کرتے ہو (تو تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا) لیکن اب یہ صورتحال رخصت ہو چکی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا تھا جس بات پر تم حیران ہوئے ہو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ صدقہ ہے، جواللہ تعالیٰ نے تم لوگوں پر کیا ہے، تو تم اس کی عطا کردہ رخصت کو قبول کرو۔