کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: سفر کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں قصر نماز کا حکم اجازت کا ہے، نہ کہ حتمی
حدیث نمبر: 2739
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ سورة النساء آية 101 ، فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ ، فَاقْبَلُوا صَدَقَةَ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هَذَا هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مَكَّةَ .
یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا:اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ” تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔“ یعنی اس حوالے سے کہ تم اگر (دشمن کی طرف سے) اندیشے کا شکار ہو، تو تم نماز کو قصر کر لو لیکن اب تو لوگ امن کی حالت میں آ چکے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی اس بات پر حیران ہوا جس بات پر تم حیران ہوئے ہو میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: یہ ایک صدقہ ہے جواللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے تم لوگاللہ تعالیٰ کے صدقے کو قبول کر لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:) ابن ابوعمار نامی راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمار ہے یہ اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں۔