کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: سفر کی نماز کا بیان -
حدیث نمبر: 2735
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَجِدُ صَلاةَ الْحَضَرِ وَصَلاةَ الْخَوْفِ ، وَلا نَجْدُ صَلاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : " ابْنَ أَخِي ، إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا نَعْلَمُ شَيْئًا ، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا قَصْرَ الصَّلاةِ عِنْدَ وُجُودِ الْخَوْفِ فِي كِتَابِهِ حَيْثُ يَقُولُ : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 ، وَأَبَاحَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْرَ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ عِنْدَ وُجُودِ الأَمْنِ بِغَيْرِ الشَّرْطِ الَّذِي أَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا قَصْرَ الصَّلاةِ بِهِ ، فَالْفِعْلانِ جَمِيعًا مُبَاحَانِ مِنَ اللَّهِ ، أَحَدُهُمَا إِبَاحَةٌ فِي كِتَابِهِ ، وَالآخَرُ إِبَاحَةٌ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
امیہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم حضر کی نماز اور نماز خوف کا ذکر کر پاتے ہیں لیکن ہمیں قرآن میں سفر کی نماز کا ذکر نہیں ملتا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے میرے بھتیجے بے شکاللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف مبعوث کیا ہمیں کسی بھی چیز کا علم نہیں تھا ہم ویسا ہی کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ نے خوف کی موجودگی میں نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔ جس کا ذکر اس کی کتاب میں ہے اس نے فرمایا ہے۔ ” تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر تم نماز کو قصر کر دیتے ہو۔ جب تم خوف کے عالم میں ہو۔ (اور خوف یہ ہو) کہ کافر لوگ تم کو آزمائش کا شکار کر دیں گے۔ “ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران نماز کے قصر کرنے کو مباح قرار دیا ہے۔ اس وقت جب امن کی صورت حال درپیش ہو۔ آپ نے کسی شرط کے بغیر ایسا کیا ہے۔ جس کواللہ تعالیٰ نے نماز کو قصر کرنے کے لیے شرط قرار دیا تھا۔ تو یہ دونوں فعل اللہ کی طرف سے مباح ہیں۔ جن میں سے ایک کی اباحت کا ذکر اس کی کتاب میں ہے اور دوسری کی اباحت کا ذکر اس کے رسول کی زبانی ذکر ہوا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2735
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على ابن ماجه» (1/ 330). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2724»