کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنے سفر سے واپسی پر اپنے اہل کو خوش کرے
حدیث نمبر: 2717
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَقَالَ : " تَزَوَّجْتَ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ ؟ " قُلْتُ : إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتُمَشِّطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ ، فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْكَيْسُ أَرَادَ بِهِ الْجِمَاعَ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں شریک ہونے کے لیے روانہ ہوا آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے شادی کر لی ہیں۔ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے دریافت کیا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟ میں نے عرض کی: بلکہ ثیبہ (یعنی بیوہ یا طلاق یافتہ کے ساتھ کی ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش مغلیاں کرتے یا وہ تمہارے ساتھ خوش مغلیاں کرتی۔ میں نے عرض کی: میری بہنیں ہیں میں نے اس بات کو پسند کیا، میں کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کروں جو ان کی دیکھ بھال کرے۔ ان کی کنگھی کرے ان کا خیال رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب تم واپس جا رہے ہو، تو جب تم گھر واپس جاؤ تو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ الکیس (سمجھداری کا مظاہرہ کرنے) سے مراد صحبت کرنا ہے۔