کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے سفر میں استعمال کرے اگر اسے چلنا اور مشقت مشکل ہو
حدیث نمبر: 2706
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ ، قَالَ : فَصَامَ النَّاسُ وَهُمْ مُشَاةٌ وَرُكْبَانٌ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ ، إِنَّمَا يَنْظُرُونَ مَا تَفْعَلُ ، فَدَعَا بِقَدَحٍ ، فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ بَعْضَهُمْ صَامَ ، فَقَالَ : " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ " ، وَاجْتَمَعَ الْمُشَاةُ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : نَتَعَرَّضُ لِدَعَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اشْتَدَّ السَّفَرُ ، وَطَالَتِ الْمَشَقَّةُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَعِينُوا بِالنَّسْلِ ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ عَلَيْكُمُ الأَرْضِ ، وَتَخِفُّونَ لَهُ " ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، فَخَفَفْنَا لَهُ .
سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد (امام محمد باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، فتح مکہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ ” کراء الغیم “ کے مقام پر پہنچے، تو راوی بیان کرتے ہیں: ان لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا کچھ پیدل چل رہے تھے کچھ سوار تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: لوگوں کے لیے روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو رہا ہے اور لوگ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آپ کیا کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ منگوایا اور اس کو اپنے منہ کی طرف بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھ لیا تو آپ نے اسے پی لیا اس کے بعد کچھ لوگوں نے روزہ ختم کر دیا۔ کچھ لوگ بدستور روزے کی حالت میں رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی۔ بعض لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ نافرمان ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پیدل چلنے والے لوگ اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے درپے ہو رہے ہیں جبکہ سفر شدت اختیار کر چکا ہے مشقت طویل ہو گئی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ تیزی سے چلنے کے ذریعے مدد حاصل کرو کیونکہ وہ زمین کے نشان کو منقطع کر دیتی ہے یہ تم لوگوں کے لیے آسان ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا، تو ہمارے لیے یہ آسان ہو گیا۔