کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سفر کے دوران نماز کے احکام کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اس دعا میں دیگر الفاظ کا اضافہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2697
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَوْفَلٍ عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الأَسَدِيِّ ، قَالَ : رَكِبَ عَلِيٌّ دَابَّةً ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا ، وَحَمَلَنَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَرَزَقَنَا مِنَ الطَّيِّبَاتِ ، وَفَضَّلَنَا عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَهُ تَفْضِيلا : سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ سورة الزخرف آية 14 - 14 " ، ثُمَّ كَبَّرَ ثَلاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرُكَ " ، ثُمَّ قَالَ : فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا ، وَأَنَا رِدْفُهُ .
علی بن ربیعہ اسدی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہوں گئے تو آپ نے بسم اللہ پڑھی تو جب آپ اس پر سوار ہو گئے، تو آپ نے یہ پڑھا: ” ہر طرح کی حمداللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ہمیں عزت عطا کی ہمیں خشکی اور سمندری راستوں پر چلنے کا موقع دیا۔ ہمیں پاکیزہ رزق عطا کیا، اور ہمیں اپنی مخلوق میں سے بہت سے لوگوں پر فضیلت دی۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے (اس سواری کو) مسخر کیا ورنہ ہم تو اسے ق ابومیں نہیں کر سکتے تھے۔ بے شک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیے جائیں گے ۔“ پھر انہوں نے تین مرتبہ تکبیر کہی پھر یہ کہا: ” اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے بے شک تیرے علاوہ کوئی اور گناہوں کی مغفرت نہیں کر سکتا ۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا تھا میں اس وقت آپ کے پیچھے سوار تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2697
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2342). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2686»