کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس مجمل حکم کا ذکر جس کی تشریح مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمارے بیان کردہ افعال سے ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2683
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلاتِهِ لِيُلْبِسَ عَلَيْهِ حَتَّى لا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس آتا ہے وہ شخص اس وقت نماز ادا کر رہا ہوتا ہے شیطان اس لیے آتا ہے، تاکہ اس کی نماز اس کے لیے مشتبہ کر دے یہاں تک کہ آدمی کو یہ پتہ نہیں چلتا، اس نے کتنی نماز ادا کی ہے، جب کسی شخص کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے تو جب وہ بیٹھا ہوا ہو، تو وہ دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔
حدیث نمبر: 2684
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرِ ، فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ مِنْ أَحَدِهِمَا ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرِو بْنِ نَضْلَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ أَنَسَ ، وَلَمْ تُقْصَرْ " ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ : كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، وَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَمَّ الصَّلاةَ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ سیدنا ذوشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ خزاعی جو بنوزہرہ کے حلیف ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نماز مختصر ہو گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں بھولا ہوں اور یہ بھی مختصر نہیں ہوئی ہے، تو سیدنا ذو شمالین نے عرض کی: ان میں سے کچھ تو ہوا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: کیا ذوشمالین ٹھیک کہہ رہا ہے لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اپنی نماز کو مکمل کیا۔