کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص دو رکعتوں سے بھول کر کھڑا ہو جائے، اسے اپنی نماز مکمل کرنی چاہیے اور سلام سے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں، نہ کہ بعد میں
حدیث نمبر: 2677
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَمَّا جَلَسَ فِي أَرْبَعٍ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ ، كَبَّرَ ثُمَّ سَجَدَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ " .
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے۔ لوگ بھی آپ کے ہمراہ کھڑے ہو گئے، جب آپ چار رکعات ادا کرنے کے بعد بیٹھے اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کے منتظر تھے، تو آپ نے تکبیر کہی پھر آپ سجدے میں چلے گئے پھر آپ نے تکبیر کہی پھر آپ سجدے میں چلے گئے ایسا آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے ہوا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2677
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (946): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2667»