کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سجدہ سهو کرنے کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ عمران بن حصین اور معاویہ بن حدیج کی خبروں سے متعارض ہے جو ہم نے پہلے بیان کیں
حدیث نمبر: 2675
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ ، وَأَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا ، إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، وَقَالُوا : قُصِرَتِ الصَّلاةُ ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، قَالَ : وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ إِمَّا قَصِيرُ الْيَدَيْنِ ، وَإِمَّا طَوِيلُهُمَا ، يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ وَلَمْ أَنَسَ " ، فَقَالَ : بَلْ نَسِيتَ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ ، قَالَ : وَنُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ : " ثُمَّ سَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ الأَخْبَارُ الثَّلاثَةُ قَدْ تُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْعِلْمِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ ، لأَنَّ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ : هُوَ الَّذِي أَعْلَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، وَفِي خَبَرِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ الْخِرْبَاقَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ، وَفِي خَبَرِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ ، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الأَحَادِيثِ تَضَادٌّ وَلا تَهَاتُرٌ ، وَذَلِكَ أَنَّ خَبَرَ ذِي الْيَدَيْنِ : سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، وَخَبَرَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، وَخَبَرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ : أَنَّهُ سَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الْمَغْرِبِ ، فَدَلَّ مِمَّا وَصَفْنَا عَلَى أَنَّهَا ثَلاثَةُ أَحْوَالٍ مُتَبَايِنَةٍ فِي ثَلاثِ صَلَوَاتٍ لا فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دوپہر کی نماز میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی۔ میرا خیال ہے، وہ ظہر کی نماز تھی۔ آپ نے اس میں دو رکعات پڑھائیں (اور پھر سلام پھیر دیا) پھر آپ مسجد میں قبلہ کی سمت رکھی ہوئی لکڑی کے پاس آ کر کھڑے ہوئے، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے ان دونوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر تھا جلد باز لوگ (مسجد) سے باہر چلے گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے لیکن انہوں نے رعب کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش نہیں کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: حاضرین میں سے ایک صاحب تھے جن کے ہاتھ شاید چھوٹے تھے یا شاید لمبے تھے۔ انہیں ذوالیدین کہا: جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز مختصر نہیں ہوئی اور میں بھی بھولا نہیں ہوں۔ انہوں نے عرض کی: شاید آپ بھول گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے تکبیر کہی اور آپ نے اپنے عام سجدوں کی مانند یا شائد اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، پھر آپ نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں کی مانند تھا یا شاید اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ تینوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں۔ جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ یہ ایک دوسرے کی متضاد ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی تھی جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی تھی۔ جبکہ سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تھا۔ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ جبکہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں تیسری رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا جبکہ سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا تھا۔ تو جو چیز ہم نے ذکر کی ہے وہ اس بات کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ تین مختلف مواقع پر تین مختلف نمازوں کے واقعات ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی نماز کے بارے میں یہ تینوں روایات مذکور ہیں۔