کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ عمران بن حصین کی خبر سے متعارض ہے جو ہم نے بیان کی
حدیث نمبر: 2674
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَسَهَا ، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، " فَأَمَرَ بِلالا ، فَأَقَامَ الصَّلاةَ ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ " ، وَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ سَهَوْتَ ، فَقِيلَ لِي : تَعْرِفُهُ ؟ فَقُلْتُ : لا ، إِلا أَنْ أُرَاهُ ، وَمَرَّ بِي رَجُلٌ ، فَقُلْتُ : هُوَ هَذَا ، فَقَالُوا : هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہوا اور آپ نے دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا۔ آپ نے نماز مکمل کی تو ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کو سہو ہو گیا ہے آپ نے دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا ہے، تو آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک رکعت کو مکمل کیا۔ میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا: جس نے یہ عرض کی تھی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو صحو ہو گیا ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا: آپ اسے جانتے ہیں میں نے جواب دیا: جی نہیں۔ اگر میں انہیں (دیکھوں گا، تو پہچان جاؤں گا) تو پھر ایک صاحب میرے پاس سے گزرے تو میں نے بتایا: یہ وہ صاحب ہیں۔ انہوں نے بتایا: یہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔