کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے کہے کی صحت کو واضح کرتی ہے کہ جو شخص اپنی نماز میں کم پر عمل کرے، اسے سلام سے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں، نہ کہ بعد میں
حدیث نمبر: 2668
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ السَّلامِ ، فَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ، وَإِنْ كَانَتْ خَامِسَةً شَفَعَتْهَا السَّجْدَتَانِ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَهِمَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ الدَّرَاوَرْدِيُّ حَيْثُ قَالَ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَكَانَ إِسْحَاقُ يُحَدِّثُ مِنْ حِفْظِهِ كَثِيرًا ، فَلَعَلَّهُ مِنْ وَهْمِهِ أَيْضًا .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے، اس نے تین رکعات ادا کی ہیں، یا چار ادا کی ہیں، تو اسے ایک رکعت ادا کرنی چاہئے اور سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لینا چاہئے اگر وہ چوتھی رکعت ہو گی، تو دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے اور اگر وہ پانچویں رکعت ہو گی، تو دو سجدے اسے جفت بنا دیں گے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دراور دی نامی راوی کو اس کی سند میں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے یہ کہا: ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ حالانکہ یہ روایت سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔ سعد بن ابراہیم نامی راوی کیونکہ اکثر اپنے حافظے کے حوالے سے احادیث بیان کیا کرتے تھے تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان کو وہم ہوا ہو۔