کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنی نماز میں کم پر عمل کرے اور شک کرے، اسے نماز سے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں، نہ کہ بعد میں
حدیث نمبر: 2667
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ ، وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً ، وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَةً ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا بِصَلاتِهِ ، وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد قائم کرے جب اسے نماز مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے اگر اس کی نماز مکمل ہو گی، تو وہ ایک رکعت نفل ہو گی دو سجدے بھی نفل ہوں گے اور اگر اس کی نماز ناقص تھی، تو وہ رکعت اس کی نماز کو مکمل کر دے گی اور دو سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2667
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر (2654). تنبيه!! رقم (2654) = (2664) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2657»