کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس لفظ کا ذکر جس کے معنی دل سے استعمال کرنے کے ہیں، نہ کہ زبان سے بولنے کے
حدیث نمبر: 2665
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَمْ يَدْرِ ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَإِذَا أَتَى أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ ، فَلْيَقُلْ : كَذَبْتَ ، إِلا مَا سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ ، أَوْ وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کوئی شخص نماز ادا کرے اور اسے یہ اندازہ نہ ہو پائے، کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار ادا کی ہیں؟ تو وہ جب بیٹھا ہوا ہو، تو اس وقت دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے کیونکہ شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور یہ کہتا ہے تم بے وضو ہو گئے ہو، تو اس آدمی کو یہ کہنا چاہیئے تم جھوٹ کہہ رہے ہو البتہ اگر وہ اپنے کانوں کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) آواز سن لے یا اپنی ناک کے ذریعے (ہوا خارج ہونے کی) بو محسوس کر لے (تو اس کا حکم مختلف ہے) ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2665
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (187). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين غير عياض فإنه لم يوثقه غير المؤلف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2655»