کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص ظہر کی دو رکعتوں سے چھوٹ جائے یہاں تک کہ وہ عصر پڑھ لے، اس پر ان کی دوبارہ ادائیگی لازم نہیں، اور یہ صرف مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، نہ کہ ان کی امت کے لیے
حدیث نمبر: 2653
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْتَ صَلاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا ، فَقَالَ : " قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ ، فَشَغَلَنِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ، فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَنَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتْنَا ؟ قَالَ : " لا " .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دو رکعات ادا کی۔ میں نے عرض کی: آج آپ نے یہ کیسی نماز ادا کی ہے، جو آپ نے اس سے پہلے ادا نہیں کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کچھ مال آیا تھا تو میں مصروفیت کی وجہ سے ان دو رکعات کو عصر سے پہلے ادا نہیں کر سکا جیسے پہلے ادا کرتا تھا ان دونوں کو میں نے اب ادا کر لیا ہے میں نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہم سے یہ رکعات فوت ہو جائیں، تو ہم ان کی قضاء کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2653
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (946). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2644»