کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام سے جہاں وہ بیدار ہوئے، دوسرے مقام کی طرف گئے تاکہ چھوٹی ہوئی نماز ادا کریں
حدیث نمبر: 2651
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا لَمَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، فَفَعَلْنَا ، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رات کے وقت پڑاؤ کیا۔ ہم بیدار نہیں ہوئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر شخص اپنی سواری کا سر پکڑ لے (اور یہاں سے روانہ ہو جائے) کیونکہ یہ ایک ایسی پڑاؤ کی جگہ ہے جہاں شیطان ہمارے پاس آ گیا تھا ہم نے ایسا ہی کیا (کچھ آگے جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا۔ آپ نے وضو کیا آپ نے دو رکعت (سنت) ادا کی اور پھر نماز ادا کی گئی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2651
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1457). تنبيه!! رقم (1457) = (1459) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2642»