کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے بیان کردہ حکم فضیلت کا ہے اس کے لیے جو اسے پسند کرے، نہ کہ ہر اس شخص کے لیے جو اپنی نماز چھوڑ دے اور اسے یاد آنے پر اسے دو بار ادا کرے، دوسری بار اس کے وقت کے علاوہ
حدیث نمبر: 2650
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسَ ، فَمَا اسْتَيْقَظَ حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُومُ دَهِشًا فَزِعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْكَبُوا " ، فَرَكِبَ وَرَكِبْنَا ، فَسَارَ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَأَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ ، وَفَرَغَ الْقَوْمُ مِنْ حَاجَاتِهِمْ ، وَتَوَضَّئُوا ، وَصَلَّوَا الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقَامَ ، فَصَلَّى بِنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا نَقْضِيهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ ؟ قَالَ : " يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ ؟ ! " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوے میں سفر کر رہے تھے جب رات کا آخری حصہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کر لیا آپ بیدار نہیں ہوئے، یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہم لوگوں کو بیدار کیا ہر شخص گھبرا کر پریشان ہو کر کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ سوار ہو جاؤ پھر آپ سوار ہوئے ہم بھی سوار ہوئے۔ آپ کچھ دیر چلتے رہے، جب سورج بلند ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی۔ لوگ اپنی حاجات پوری کر کے فارغ ہوئے انہوں نے وضو کیا انہوں نے دو رکعات (سنت) ادا کی پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم کل اس کے وقت میں اس کی قضا نہ کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پروردگار نے تمہیں سود سے منع کیا ہے، تو کیا وہ خود اسے قبول کرے گا ۔“