کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ کسی کی طرف سے دوسرے کی نماز جائز نہیں
حدیث نمبر: 2648
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ نَسِيَ صَلاةً ، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ " قَالَ : أَبُو حَاتِمٍ : فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ " دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الصَّلاةَ لَوْ أَدَّاهَا عَنْهُ غَيْرُهُ لَمْ تُجْزِ عَنْهُ ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ " ، يُرِيدُ إِلا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمَيِّتَ إِذَا مَاتَ وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَدَائِهَا فِي عِلَّتِهِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُعْطَى الْفُقَرَاءَ عَنْ تِلْكَ الصَّلَوَاتِ الْحِنْطَةَ ، وَلا غَيْرَهَا مِنْ سَائِرِ الأَطْعِمَةِ وَالأَشْيَاءِ .
سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائے تو جب اسے (نماز) یاد آئے، تو اسے ادا کر لے اس کا کفارہ صرف یہی ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” جب وہ اسے یاد آئے تو اسے ادا کر لے اس کا کفارہ صرف یہی ہے “ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے اس کی نماز کو ادا کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہو گی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” کیونکہ اس کا کفارہ صرف یہ ہی ہے “ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب وہ اسے یاد آ جائے تو خود اس کو ادا کرے۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے اگر کوئی شخص فوت ہو جائے۔ اس کے ذمے کچھ نمازیں ہوں جنہیں وہ اپنی بیماری کے دوران ادا نہ کر سکا ہو۔ تو اب یہ بات جائز نہ ہو گی کہ ان نمازوں کے عوض میں غریبوں کو گندم دے دی جائے۔ یا اس کے علاوہ دیگر اناج یا کوئی اور چیز دے دی جائے۔