کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ اگر وہ کسی وجہ سے رات کا تہجد چھوڑ دے تو دن میں اسے پڑھ لے
حدیث نمبر: 2644
أَخْبَرَنَا أَبُو فِرَاسٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الأَصَمُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعِيشَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلا أَثْبَتَهُ " ، وَقَالَت: " كَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّى بِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً " . " وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصُّبْحِ ، وَلا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلا رَمَضَانَ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل کرتے تھے، تو اس کو باقاعدگی سے کیا کرتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے (نوافل) ادا کیے بغیر سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (انہیں ادا نہ کر پاتے) تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ کو رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی اور پورے مہینے میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2644
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2633). تنبيه!! وقعت كنيت الراوي «مُحَمَّدُ بْنُ جُمْعَةَ الأَصَمُّ» في «طبعة باوزير»، «أَبُو قُرَيش» بدلا من «أَبُو فِرَاسٍ». ملحوظة رقم (2633) = (2642) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2635»