کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنے حصے سے سو جائے پھر فجر اور ظہر کے درمیان اس کے برابر پڑھے، اس کے لیے اس کے حصے کا اجر لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2643
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ابْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أخبراه ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ مِنْ بَنِي قَارَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ ، أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الظُّهْرِ ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ بِاللَّيْلِ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص اپنے معمول کے وظیفے کو سرانجام دینے سے پہلے سو جائے یا اس میں سے کوئی چیز رہ جائے، تو وہ اگر اسے (اگلے دن) فجر کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک کے درمیانی حصے میں پڑھ لے، تو اس کے نامہ اعمال میں یہ اسی طرح نوٹ کیا جائے گا، جس طرح اس کے رات کے وقت پڑھنے کو نوٹ کیا جاتا ہے ۔“