کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اپنے عادی تہجد کو رات میں ترک کرے
حدیث نمبر: 2641
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، لا تَكُنْ مِثْلَ فُلانٍ ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ قَوْلِ الإِنْسَانِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ فِي الإِنْسَانِ مَا إِذَا سَمِعَهُ اغْتَمَّ بِهِ ، إِذَا أَرَادَ هَذَا الْقَائِلُ بِهِ إِنْبَاهَ غَيْرِهِ دُونَ الْقَدْحِ فِي هَذَا الَّذِي قَالَ فِيهِ مَا قَالَ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اے عبداللہ بن عمرو! تم فلاں شخص کی مانند نہ ہو جانا جو پہلے رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتا تھا اور پھر اس نے رات کے قیام کو ترک کر دیا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لیے کسی دوسرے شخص کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا جائز ہے کہ اگر وہ شخص خود اس بات کو سن لے تو غمگین ہو جائے، جبکہ کہنے والے شخص کا مقصد اس کی برائی بیان کرنا نہ ہو بلکہ کسی اور شخص کو کسی حوالے سے تنبیہ کرنا مقصود ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2641
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الترغيب» (641): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2632»