کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے پہلے بیان کردہ خبروں سے متعارض ہے
حدیث نمبر: 2639
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الآخِرَةَ ، ثُمَّ يُسَبِّحُ ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا يُصَلِّي ، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ ، فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ ، وَصَلاتُهُ تِلْكَ الآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ " .
یعلیٰ مملک بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی (نفل) نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرتے تھے، پھر آپ تسبیح پڑھتے رہتے تھے، پھر اس کے بعد رات کے وقت جب اللہ کو منظور ہوتا تھا نماز ادا کرتے رہتے تھے، پھر آپ نماز ختم کر کے اتنی ہی دیر کے لیے سو جاتے تھے جتنی دیر آپ نماز ادا کرتے رہے تھے، پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہو کے اتنی دیر نماز ادا کرتے رہتے تھے جتنی دیر سوئے رہتے تھے آپ کی آخری نماز صبح صادق تک جاری رہتی تھی۔