کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ تہجد کرنے والا اپنے ورد کے بعد فجر کے طلوع ہونے سے پہلے لیٹ سکتا ہے
حدیث نمبر: 2636
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ ، لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْقُبُهُ ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ، فَقَامَ يُصَلِّي ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَتَتَامَّتْ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ، فَإِذَا بِلالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاةِ ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَكَانَ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا ، وَفِي بَصَرِي نُورًا ، وَفِي سَمْعِي نُورًا ، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا ، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا ، وَفَوْقِي نُورًا ، وَتَحْتِي نُورًا ، وَأَمَامِي نُورًا ، وَخَلْفِي نُورًا ، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا " ، قَالَ كُرَيْبٌ : فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَذَكَرَ : " عَصَبِي ، وَلَحْمِي ، وَدَمِي ، وَشَعْرِي ، وَبَشَرِي " ، وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی۔ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے۔ آپ نے قضائے حاجت کی پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر آپ سو گئے پھر آپ بیدار ہوئے آپ مشکیزے کے پاس آئے آپ نے اس کا منہ کھولا پھر آپ نے وضو کیا جو درمیانے درجے کا تھا آپ نے اس میں زیادہ مرتبہ اعضاء کو نہیں دھویا آپ نے پورا وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور نماز ادا کرنے لگے میں بھی اٹھا میں نے یوں ظاہر کیا جیسے ابھی بیدار ہوا ہوں، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے، آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ کا جائزہ لے رہا تھا میں اٹھا میں نے وضو کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے میں آپ کی بائیں طرف آ کر کھڑا ہو گیا آپ نے میرے کان پکڑے اور مجھے گھما کر اپنے دائیں طرف کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تیرہ رکعات میں پوری ہوئی آپ لیٹ گئے اور سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے آپ سوتے تھے، تو خراٹے لیا کرتے تھے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا، اور اس (نماز) میں یہ دعا پڑھی: ” اے اللہ! تو میرے دل میں نور کر دے میری بصارت میں نور کر دے۔ میری سماعت میں نور کر دے میرے دائیں طرف نور کر دے میرے بائیں طرف نور کر دے میرے اوپر نور کر دے میرے نیچے نور کر دے میرے آگے نور کر دے میرے پیچھے نور کر دے اور میرے لیے نور کو زیادہ کر دے ۔“ کریب نامی راوی بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی سے ہوئی انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی جس میں یہ الفاظ بھی بیان کیے۔ ” میرے پٹھوں میرے گوشت میرے خون میرے بالوں اور میری کھال میں (نور) کر دے ۔“ انہوں نے دو خصلتوں کا ذکر بھی کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2636
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1226): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2627»