کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد جو دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں کیا پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2635
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ، وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ ، ثُمَّ يُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمُ ، جَعَلَ الثَّمَانَ سِتًّا ، وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ إِذَا زُلْزِلَتْ " أَبُو حُرَّةَ اسْمُهُ وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ .
سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے، تو دو مختصر رکعت ادا کرتے تھے، پھر آپ سو جاتے تھے آپ کے وضو کا پانی اور آپ کی مسواک آپ کے سرہانے موجود ہوتی تھیں پھر آپ بیدار ہو کر مسواک کرتے تھے اور وضو کرتے تھے، نماز ادا کرتے تھے، دو مختصر رکعت ادا کرتے تھے، پھر آپ کھڑے ہو کر آٹھ رکعات ادا کرتے جن میں ایک جتنی قرأت کرتے تھے، پھر آپ نویں رکعت کے ذریعے انہیں وتر کر لیتے تھے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی اور آپ کا جسم بھاری ہو گیا تو آپ نے آٹھ رکعات کو چھ کر دیا اور ساتویں رکعت کے ذریعے وتر ادا کر لیتے تھے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے جن میں آپ سورہ الکفرون اور سورہ زلزال کی تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2635
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1419). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2626»