کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی رات کے تہجد کے بعد وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھ سکتا ہے، سوائے فجر کی دو رکعتوں کے
حدیث نمبر: 2634
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ يُوتِرُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلاةِ الصُّبْحِ " .
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نفل نماز کے بارے میں دریافت کیا: تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعات ادا کیا کرتے تھے، پھر آپ وتر ادا کرتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے تھے، پھر آپ کھڑے ہو کر تلاوت کرتے تھے، پھر رکوع میں جاتے تھے، پھر آپ صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعات (سنت) ادا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2634
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1211): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2625»