کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ تہجد کرنے والے کو حکم دیا گیا کہ وہ صبح سے پہلے اپنی نماز کے آخر میں ایک رکعت سے وتر کرے، نہ کہ اس کے بعد
حدیث نمبر: 2623
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا بَيْنَهُمَا ، كَيْفَ صَلاةُ اللَّيْلِ ؟ فَقَالَ : " مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ وَاحِدَةً وَسَجْدَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز میں مخاطب کیا میں اس وقت ان دونوں کے درمیان تھا، اس نے دریافت کیا: رات کے وقت کی نماز کیسی ہونی چاہیئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو، دو کر کے ادا کی جائے گی اور جب صبح صادق قریب ہونے کا اندیشہ ہو، تو تم صبح صادق ہونے سے پہلے ایک رکعت اور دو سجدے ادا کر لو۔