کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد کی نمازوں کی فضیلت سب صحیح اور ثابت ہے بغیر کسی تعارض یا منسوخی کے
حدیث نمبر: 2619
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُبِضَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ آخِرَ صَلاتِهِ مِنَ اللَّيْلِ وَالْوِتْرِ ، ثُمَّ رُبَّمَا جَاءَ إِلَى فِرَاشِي هَذَا ، فَيَأْتِيهِ بِلالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلاةِ " .
مسروق بیان کرتے ہیں: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تیرہ رکعات ادا کیا کرتے تھے، پھر آپ گیارہ رکعات ادا کرنے لگے آپ نے دو رکعات کو ترک کر دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ رات کے وقت نو رکعات ادا کیا کرتے تھے آپ کی رات کی نماز کا آخری حصہ وتر ہوتے تھے، پھر بعض اوقات آپ میرے بستر پر تشریف لے آتے پھر بلال آپ کو نماز کے لیے بلانے کے لیے آتے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2619
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني منكر - «الضعيفة» (6366)، «ضعيف أبي داود» (242). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2612»