کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے تہجد کی کتنی رکعتوں سے ادائیگی کرے
حدیث نمبر: 2612
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلاةِ الْعِشَاءِ ، وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ ، وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ ، وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، وَاضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ بِالإِقَامَةِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز جسے لوگ عتمہ کہتے ہیں سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ آپ ہر دو رکعات ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا کرتے تھے۔ آپ ایک رکعت کے ذریعے وتر ادا کر لیا کرتے تھے جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوتا اور صبح صادق ہو جاتی اور مؤذن آ جاتا تو آپ اٹھ کر دو مختصر رکعات ادا کر لیتے پھر آپ اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے یہاں تک کے مؤذن آپ کو بلانے آ جاتا۔