کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ تہجد کرنے والا رات کی نماز میں رکوع اور قیام کو لمبا کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2609
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فقلت : يَقْرَأُ مِائَةَ آيَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ ، فَمَضَى ، فَقُلْتُ : يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَمَضَى ، فَقُلْتُ : يَخْتِمُهَا ثُمَّ يَرْكَعُ ، فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ ، ثُمَّ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ، يَقُولُ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ، لا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ إِلا ذَكَرَهُ " .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرۃ کی تلاوت شروع کی میں نے سوچا آپ ایک سو آیات کی تلاوت کر کے رکوع میں چلیں جائیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کرتے رہے میں نے سوچا دو رکعات میں یہ سورۃ پوری پڑھ لیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کرتے رہے میں نے سوچا آپ یہ سورۃ مکمل کر کے پھر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے سورۃ النساء کی تلاوت شروع کی پھر آپ نے سورہ ال عمران بھی پڑھ لی۔ پھر آپ رکوع میں گئے اور تقریباً اتنی دیر رکوع میں رہے جتنا آپ نے قیام کیا تھا آپ اس میں سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا۔ «سمع اللہ لمن حمده»، «ربنا ولك الحمد» پڑھا پھر آپ نے اتنا طویل قیام کیا، پھر آپ سجدے میں گئے، تو آپ نے سجدے کو طول دیا سجدے میں «سبحان ربی الاعلیٰ» پڑھتے رہے (اس تلاوت کے دوران) آپ جب بھی خوف دلانے یا عظمت کے اظہار والی کسی آیت کی تلاوت کرتے تھے، تو آپ اس کا ذکر کیا کرتے تھے۔