کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ رات کی نماز میں قیام کو لمبا کرے کیونکہ قنوت کی فضیلت نماز کی فضیلت ہے
حدیث نمبر: 2607
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الأَحْدَبُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَمَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ ، فَأَذِنَ لَنَا ، فَمَكَثْنَا هُنَيْهَةً ، فَخَرَجَتِ الْخَادِمُ ، فَقَالَتْ : أَلا تَدْخُلُونَ ؟ قَالَ : فَدَخَلْنَا ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ ، فَقَالَ : مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ ؟ فَقَالُوا : لا ، إِلا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ ، قَالَ : ظَنَنْتُمْ بِآلِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً ، ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ ، قَالَ : يَا جَارِيَةُ ، انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ ؟ قَالَ : فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا ، قَالَ مَهْدِيٌّ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، " إِنِّي لأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنَ الْمُفَصَّلِ ، وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم " .
ابووائل بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے انہیں دروازے پر سلام کہا: اور انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی ہم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے۔ خادمہ باہر آئی انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگ اندر کیوں نہیں آتے؟ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ اندر گئے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور تسبیح پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب تم لوگوں کو اجازت مل گئی تھی، تو تم لوگ اندر کیوں نہیں آئے۔ ان لوگوں نے کہا: جی نہیں ہم یہ گمان کر رہے تھے، اہل خانہ میں سے کچھ لوگ سوئے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: تم نے ام عبد کے گھرانے کے بارے میں غفلت کا گمان کیا تھا، پھر وہ تسبیح پڑھنے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ گمان کیا، سورج نکل آیا ہو گا، تو انہوں نے فرمایا: اے لڑکی تم جا کر دیکھو، سورج نکل آیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: اس لڑکے نے دیکھا تو وہ نکل چکا تھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے، جس نے ہمیں یہ دن بھی عطا کیا ہے “ مہدی نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں “ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ہلاک نہیں کیا ہے “ حاضرین میں سے ایک صاحب نے گزارش کی گزشتہ رات میں نے تمام مفصل آیتوں کی تلاوت کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو شعر پڑھنے کی طرح تیزی سے پڑھنا ہوا مجھے ایک دوسرے کے قریب قریب کی وہ سورتیں، یاد ہیں، جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کیا کرتے تھے وہ مفصل سورتوں سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سورتیں ہیں اور ال حم سے تعلق رکھنے والی دو سورتیں ہیں۔