کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی رات کی نماز شروع کرتے وقت ہمارے بیان کردہ تکبیر، تسبیح اور تحمید میں اضافہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2602
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ بِهِ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ ؟ قَالَتْ : لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ ، " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي : يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ عَشْرًا ، ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا ، وَيَحْمَدُ عَشْرًا ، وَيُهَلِّلُ عَشْرًا ، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ، وَاهْدِنِي ، وَارْزُقْنِي عَشْرًا ، وَيَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَشْرًا " .
عاصم بن حمید بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا وہ کہتے ہیں میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے نوافل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو آپ کس چیز سے آغاز کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے: تم سے پہلے کسی نے بھی مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دس مرتبہ اللہ اکبر کہتے تھے، پھر دس مرتبہ سبحان اللہ کہتے تھے دس مرتبہ الحمداللہ کہتے تھے، پھر دس مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھتے تھے۔ پھر دس مرتبہ استغفار پڑھتے تھے اور یہ کہتے تھے: ” اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ۔ تو مجھے رزق عطا کر ۔“ یہ بھی آپ دس مرتبہ پڑھتے تھے، پھر آپ قیامت کے دن کی تنگی سے دس مرتبہ اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔