کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 2598
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، أَنْتَ الْحَقُّ ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ ، وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نصف رات کے وقت نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے۔ تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے۔ تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا پروردگار ہے۔ تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے۔ تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے جنت حق ہے، جہنم حق ہے قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے اسلام قبول کیا ہے۔ تجھ پر ایمان لایا تجھ پر ہی توکل کیا تیری ہی طرف رجوع کیا تیری مدد سے میں جھگڑا کرتا ہوں اور تجھے ہی ثالث مقرر کرتا ہوں میں نے جو پہلے کیا، اور جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا، اور جو اعلانیہ طور پر کیا، تو ان سب کی مغفرت کر دے تو میرا معبود ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2598
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2589»