کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں اپنے رب جل وعلا کی حمد اور دعا کس طرح کرتے تھے
حدیث نمبر: 2597
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ تَهَجَّدَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ ، اللَّهُمَّ بِكَ آمَنْتُ ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ ، وَبِكَ خَاصَمْتُ ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَزَادَ فِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ : " لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ " ، قَالَ سُفْيَانُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ عَبْدَ الْكَرِيمِ أَبَا أُمَيَّةَ ، فَقَالَ : قُلْ : " أَنْتَ إِلَهِي لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، وَلا إِلَهَ غَيْرُكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب تہجد کی نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ ” اے اللہ! حمد تیرے ہی لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا نور ہے حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا بادشاہ ہے، حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو حق ہے تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے تیرا وعدہ حق ہے جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں، اے اللہ! میں تجھ پر ہی ایمان لایا اور تیرے ہی لیے اسلام قبول کیا تجھ پر ہی توکل کیا تیری طرف رجوع کیا تیری مدد سے میں جھگڑا کرتا ہوں تجھے ہی ثالث مقرر کرتا ہوں میں نے جو پہلے کیا جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا جو علانیہ طور پر کیا ان سب کی مغفرت کر دے تو ہی آگے کرنے والا ہے، تو ہی پیچھے کرنے والا ہے صرف توں ہی معبود ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔“ سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس میں عبدالکریم نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں۔ ” تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہےاللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ الفاظ عبدالکریم ابوامیہ کے سامنے بیان کیے، تو وہ بولے: تم یہ پڑھو۔ ” تو میرا معبود ہے صرف تو ہی معبود ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2597
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (745): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2588»