کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان ہمارے بیان کردہ رات کی نماز نیند کے بعد پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2593
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَإِلا نَامَ ، فَإِذَا سَمِعَ الأَذَانَ وَثَبَ ، وَمَا قَالَتْ : قَامَ ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، وَمَا قَالَتِ : اغْتَسَلَ ، وَإِلا تَوَضَّأَ ، وَخَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ " .
اسود بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصے میں سو جاتے تھے۔ پھر آپ بیدار ہو کر نماز ادا کرتے تھے جب سحری کا وقت قریب آ جاتا تھا تو آپ وتر ادا کر لیتے تھے اگر آپ کو اپنی اہلیہ سے کوئی حاجت ہوتی تھی، تو اسے پورا کرتے تھے ورنہ سو جاتے تھے، پھر آپ اذان کی آواز سنتے تھے، تو اٹھ جاتے تھے اگر آپ جنابت کی حالت میں ہوتے تھے، تو آپ غسل کر لیتے تھے اور ورنہ وضو کر کے نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے (یہاں راوی نے کچھ الفاظ کی وضاحت کی ہے)