کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس حکم کا دیا گیا
حدیث نمبر: 2586
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ الْحَوْلاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ، مَرَّتْ بِهَا ، وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : هَذِهِ الْحَوْلاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ ، زَعَمُوا أَنَّهَا لا تَنَامُ بِاللَّيْلِ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَنَامُ اللَّيْلَ ! خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَوَاللَّهِ لا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ حولاء بنت تویت ان کے پاس سے گزری۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے پاس موجود تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: یہ حولاء بنت تویت ہے۔ لوگ یہ کہتے ہیں یہ رات کے وقت سوتی نہیں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ رات کے وقت سوتی نہیں ہے تم لوگ اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک منقطع نہیں ہوتا، جب تک تم اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو جاتے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2586
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (360). تنبيه!! رقم (360) = (359) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2577»