کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ رات کے تہجد میں اگر نیند غالب آ جائے تو اپنے ورد پر سونے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 2583
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب کسی شخص کو نماز کے وقت نیند آ جائے، تو اسے سو جانا چاہیئے، یہاں تک کہ اس کی نیند ختم ہو جائے کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے، کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو گا اور وہ اونگھ رہا ہو اور اپنی طرف سے دعائے مغفرت کر رہا ہو لیکن درحقیقت خود کو برا بھلا کہہ رہا ہو ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2583
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1183): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2574»