کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے اٹھنے پر کیا پڑھتے تھے
حدیث نمبر: 2579
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ ، أَوْ قَبْلَهُ ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ نصف رات ہو گئی۔ نصف رات سے کچھ پہلے یا بعد کا وقت تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر نیند کے اثرات کو دور کیا، پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی اس کے بعد آپ لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے اور آپ نے اس سے وضو کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2579
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1237)، «الإرواء» (294): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2570»