کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص ڈرتا ہو کہ وہ تہجد کے لیے نہ اٹھ سکے، وہ مسافر ہونے کی صورت میں وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھے
حدیث نمبر: 2577
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ وَثُقْلٌ ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلا كَانَتَا لَهُ " .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ” یہ سفر مشقت اور بوجھ کا باعث ہوتا ہے، تو جب کوئی شخص وتر ادا کرے تو اسے دو رکعات ادا کر لینی چاہئے اگر وہ (فجر کی نماز کے وقت) بیدار ہو گیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ دونوں اس کے لیے کافی ہوں گی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2577
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1993). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2568»