کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ قناطر کی مقدار اور اس بات کا بیان کہ جسے اس کے اجر کے برابر دیا جائے وہ اس سے بہتر ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے
حدیث نمبر: 2573
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ ، كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے جن میں سے ہر ایک اوقیہ آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز سے زیادہ بہتر ہے ۔“