کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: قیام الليل کا بیان - اس بات کی نفی کہ جو شخص رات کو دس آیات کے ساتھ قیام کرے اس پر غفلت ہے، اور سو آیات کے ساتھ قیام کرنے والے کو قانتین میں اور ہزار آیات کے ساتھ قیام کرنے والے کو مقنطرین میں لکھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 2572
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا سُوَيْدٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : أَبُو سُوَيْدٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ سُوَيْدٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، وَقَدْ وَهِمَ مَنْ قَالَ : أَبُو سَوِيَّةَ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص نوافل میں دس آیات کی تلاوت کرتا ہے اس کا شمار غافلین میں نہیں ہوتا جو شخص نوافل میں ایک سو آیات کی تلاوت کرتا ہے اس کا شمار قانتین میں ہوتا ہے اور جو شخص ایک ہزار آیات کی تلاوت کرتا ہے اس کا شمار مقنطرین میں ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسوید نامی راوی کا نام حمید بن سوید ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شخص کو غلط فہمی ہوئی جس نے ان کا نام ابوسویہ بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2572
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1264)، «الصحيحة» (642). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2563»